ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / جرمنی:کرسمس مارکیٹ میں ٹرک کی ٹکر سے 12ہلاک، 48زخمی

جرمنی:کرسمس مارکیٹ میں ٹرک کی ٹکر سے 12ہلاک، 48زخمی

Wed, 21 Dec 2016 12:05:17    S.O. News Service

برلن،20؍دسمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)جرمنی کے دارالحکومت برلن میں برلن میں کرسمس کی خریداری کے لیے قائم کردہ ایک بازار میں ٹرک کے ٹکرانے سے 12افراد ہلاک اور 48سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ ان کی ابتدائی معلومات کے مطابق یہ ایک سوچا سمجھا حملہ تھا۔ جب کہ وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ اس بات کے قوی امکان موجود ہیں کہ یہ حادثہ نہیں بلکہ حملہ ہے۔ مبینہ حملے کے لیے استعمال ہونے والے ٹرک پر پولینڈ کی نمبر پلیٹ لگی ہے۔ ٹرک ڈرائیور نے اس کارروائی میں خود کشی کرلی ہے جب کہ پولیس نے ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لیا ہے۔جائے وقوعہ سے آنے والے ویڈیو مناظر میں کئی سٹالوں کو تباہ اور متعدد افراد کو زخمی دیکھا جا سکتا ہے۔واقعے کے بعد پولیس نے جائے وقوعہ اور اس کے اطراف میں سیکیورٹی سخت کردی ہے اور شہریوں کو تاکید کی گئی ہے وہ گھروں سے باہر نہ نکلیں تاہم حکام کاکہنا ہے مزید ایسے کسی حملے کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ شہریوں کو احتیاطی تدابیر کیتحت گھروں میں رہنے کو کہا گیا ہے۔

جرمن وزیر داخلہ فرانک فالٹر اشٹائنٹر نے اس موقع پر کہا ہے کہ آج کا دن ہمارے ملک کے لیے انتہائی برا ہے اور اس سے میرے سمیت بے شمار لوگ پریشان ہیں۔ میری نیک تمنائیں متاثرین اور ان کے خاندان والوں کے ساتھ ہیں۔ قبل ازیں انہوں نے کہا تھا کہ ٹرک کی ٹکر سے شہریوں کے کچلے جانے کا واقعہ مبہم ہے، تاہم پولیس اس کی تحقیقات کررہی ہے۔ٹرک تلے روندی جانے والی مارکیٹ بریچتپلٹز کے علاقے میں ہے جو کہ شہر کے مغربی علاقے کی مرکزی شاپنگ سٹریٹ کرفرتسنڈام کے قریب ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس ٹرک کی نمبر پلیٹ پولینڈ کی تھی اور اس کی مالک پولینڈ سے تعلق رکھنے والی ایک ڈلیوری سروس کمپنی ہے۔کمپنی کا کہنا ہے کہ ٹرک پیر کو پولینڈ سے برلن کے لیے روانہ ہوا تھا تاہم مقامی وقت کے مطابق شام چار بجے ان کا ٹرک سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔پولیس کا خیال ہے کہ اس ٹرک کو راستے میں چوری کر لیا گیا تھا۔خیال رہے کہ اس حملے جیسا ہی ایک اور حملہ جولائی میں فرانسیسی شہر نیس میں ہوا تھا جس میں ایک ٹرک کو لوگوں کے ھجوم پر چڑھا دیا گیا تھا۔ اُس حملے میں 84افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے تھے اور اس کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے قبول کی تھی۔


Share: